اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے مسلسل تیسرے روز بھی بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے متعلق بحری نقل و حمل پر دباؤ برقرار رکھا۔ یمنی ذرائع کے مطابق اس کے باعث جدہ اور ينبع کی بندرگاہوں کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جبکہ کئی ایشیائی شپنگ کمپنیوں نے یمنی کارروائیوں سے بچنے کے لیے بحیرۂ احمر کے بجائے رأسِ امید (Cape of Good Hope) کے راستے کو اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صنعاء بحری محاصرے کے دوسرے مرحلے پر غور کر رہا ہے، جس میں سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے والے تمام جہازوں کی آمدورفت، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، ممنوع قرار دی جا سکتی ہے۔
انصار اللہ کی سعودی تیل برآمدات کے بارے میں وارننگ
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے سعودی عرب کی جانب سے متبادل راستوں کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی کوششوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کا یہ خیال کہ وہ بحیرۂ روم کے راستے تیل کی برآمدات جاری رکھ سکے گا، "بڑی غلط فہمی" ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمنی افواج کے آئندہ اقدامات "تیل کی سپلائی مکمل طور پر بند" کر سکتے ہیں۔ ان کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ مشرق۔مغرب (East-West) آئل پائپ لائن اور ينبع کی تیل برآمدی بندرگاہ بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔
بحری آمدورفت میں نمایاں کمی
بحری نگرانی کے ادارے MarineTraffic کے اعداد و شمار کے مطابق باب المندب سے سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہازوں کی تعداد 73 سے کم ہو کر 29 رہ گئی ہے۔ دوسری جانب رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ مزید چار جہاز بھی ان چھ جہازوں میں شامل ہو گئے ہیں جن کی آمدورفت متاثر ہوئی، جن میں دو سعودی آئل ٹینکر بھی شامل ہیں، جنہیں اپنا راستہ تبدیل کرکے نہرِ سویز کی جانب جانا پڑا۔ یوں یمن کے فیصلے پر عمل درآمد کے ابتدائی 48 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 10 سعودی جہاز باب المندب سے گزرنے سے رک گئے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات
آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور بحیرۂ احمر کے راستے سعودی تیل کی ترسیل محدود ہونے کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ حالیہ گھنٹوں میں خام تیل کی قیمت تقریباً چار فیصد اضافے کے بعد 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ بعض تجزیہ کاروں نے آنے والے دنوں میں اس کے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اسی دوران بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ یمن کے ممکنہ حملوں اور بحری محاصرے کے خدشات کے باعث سرمایہ کار سعودی تیل کی خریداری میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ